نئی دہلی،13؍مارچ(ایس او نیوز؍ایجنسی)اتر پردیش سمیت پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعدکانگریس کی اعلیٰ پالیسی سازکمیٹی اتوار کو شام 4 بجے میٹنگ کرے گی۔کانگریس ورکنگ کمیٹی کی اس میٹنگ کی صدارت کانگریس صدر سونیا گاندھی کریں گی۔ پانچ ریاستوں میں کانگریس کی کراری شکست کے پیش نظر یہ میٹنگ بہت اہم سمجھی جا رہی ہے۔ ذرائع نے ہفتہ کوبتایاہے کہ کانگریس میں تنظیمی انتخابات ستمبر میں تجویز کیے گئے ہیں، لیکن یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ قیادت کے بارے میں اٹھتے ہوئے سوالات کے درمیان یہ وقت سے پہلے کرائے جا سکتے ہیں۔ یہ میٹنگ ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب جمعہ کی رات کانگریس کے ایک ناراض گروپ G-23 کے کچھ لیڈروں کی میٹنگ ہوئی تھی۔ کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد کے گھر پر منعقدہ میٹنگ میں منیش تیواری اور دیگر قائدین نے شرکت کی ہے۔ اتر پردیش، پنجاب، گوا اور منی پور میں کانگریس زیادہ کچھ نہیں کر پائی ہے، جب کہ پنجاب میں اس نے بری کارکردگی سے اقتدار کھو دیا ہے۔ اتر پردیش میں پرینکا گاندھی نے انتخابی مہم کی ذمہ داری سنبھالی، لیکن کانگریس صرف دو سیٹیں جیت سکی۔ راہل گاندھی نے پورے یوپی انتخابات میں بہت کم مہم چلائی۔ اسے ریاست میں صرف 2.4 فیصد ووٹ ملے۔ یوپی کی 380 سیٹوں پر کانگریس امیدواروں کی ضمانت بھی ضبط ہو گئی ہے۔ کانگریس کی شکست کے بعد کیرلا کے ایم پی ششی تھرور سمیت کئی لیڈر پہلے ہی اعلیٰ سطح پر تبدیلیوں کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ تاہم کرناٹک کے سینئر لیڈر ملکارجن کھرگے اور ڈی کے شیوکمار نے گاندھی خاندان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ شکست کے بعد یوپی کانگریس کے کئی لیڈروں نے بھی پارٹی چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری طرف یوپی کانگریس کے الیکٹرانک میڈیا کوآرڈی نیٹر ذیشان حیدر کو قیادت کے خلاف قابل اعتراض بیان دینے پر پارٹی سے نکال دیا گیا ہے۔